ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مینگلور کے قریب مُلکی میں بی جے پی لیڈر کو قتل کرکے فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلانے کی کوشش ناکام۔ تین ملزمین گرفتار

مینگلور کے قریب مُلکی میں بی جے پی لیڈر کو قتل کرکے فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلانے کی کوشش ناکام۔ تین ملزمین گرفتار

Sat, 31 Mar 2018 20:37:21    S.O. News Service

مینگلور 31؍مارچ (ایس او نیوز) مینگلور کے قریب مولکی پولیس تھانہ حدود میں پولس  نے تین ایسے ملزمین کو گرفتار کیا ہے جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے وہ لوگ بی جے پی کے ایک لیڈر کو قتل کرکے فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلانے کی سازش پر عمل کرنے والے تھے۔گرفتار ملزمین کے نام پردیپ پجاری(۲۴سال)، دنیش بیلچڈ(۲۳سال)اور شیو پرساد(۲۸سال) بتائے جاتے ہیں۔

اس معاملے کے سامنے آنے پر عوام میں یہ شک ظاہر کیا جارہا ہے کہ الیکشن کے اعلان ہوتے ہی ایسی سازش پر عمل کرکے بی جے پی کے ایک اہم لیڈر کو قتل کرنے سے پورے ساحلی علاقے میں فرقہ وارانہ تناؤ پھیل جاتا اور اس سے براہ راست سیاسی فائد اٹھانا ہی بی جے پی منصوبہ رہا ہوگا۔اگر واقعی یہی پردے کے پیچھے کی بات تو ہے پھر کہا جاسکتا ہے کہ پولیس کی بروقت کارروائی سے ایک بہت بڑی آفت فی الحال ٹل گئی ہے۔

کہاجاتا ہے کہ اس سازشی منصوبے کے نشانے پر جو تھا اس کا نام سابق ضلع پنچایت رکن اور بی جے پی لیڈر ایشور کٹیل ہے۔ایشورکا کہناہے کہ پچھلے دو ہفتوں سے ایک کار میرا پیچھاکررہی تھی، لیکن میں نے اس پر زیادہ دھیان نہیں دیا۔پھر پولیس نے ہی مجھے اشارہ دیا کہ میں ذرا چوکنا رہوں۔اس کے پیچھے کانگریس کا نام لے کر غیر قانونی دھندے چلانے والے نوین کٹیل کا ہاتھ ہونے کی بات کہتے ہوئے ایشور کٹیل نے اپنے قتل کی سازش کا پردہ فاش ہونے پر حیرانی کا اظہار کیا ہے۔ 

تینوں گرفتار ملزمین نامی غنڈے (ہسٹری شیٹرس) ہیں، جن کے تعلق سے خفیہ اطلاع ملنے پر مولکی پولیس کے اینٹی راؤڈی اسکواڈنے کارروائی کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرلیا ہے۔ جبکہ نوین کٹیل اور آکاش گانیگا نامی مزید دو ملزمین فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے بی جے پی رکن پارلیمان نلین کمار کٹیل نے کہا ہے کہ قتل کی سازش کوپولیس ڈکیتی کا معاملہ بناکر میڈیا کے سامنے پیش کررہی ہے۔ نلین کمار کا کہنا تھا کہ کرناٹکا میں لاء اینڈ آرڈر کی حالت بہت ہی خطرناک ہوگئی ہے۔ رقابت والی کیرالہ کی سیاست اب جنوبی کینرا میں بھی پہنچ گئی ہے۔ تین ملزموں کو گرفتار کرنے والی پولیس نے اس سازش کے اصل ماسٹر مائنڈغنڈے نوین کمار کٹیل کو گرفتار نہیں کیا ہے۔ اس کے پیچھے کیا راز ہے ، وہ سب ظاہر ہوجانا چاہیے۔ اور ہمیں انصاف ملنا چاہیے ۔ ورنہ اس کے خلاف احتجاج کا راستہ اپنایا جائے گا۔


Share: